نئی دہلی، 4/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی ) دہلی میں خاتون پہلوانوں پر مودی حکومت کی سرپرستی میں پولیس مظالم کے خلاف اور بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آل انڈیا پروگریسیو وومن ایسو سی ایشن (ایپوا)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن (آئسا) اور انقلابی نوجوان سبھا (آر وائی اے) نے لکھنؤ کے ’پریورتن چوک‘ سے جی پی او لکھنؤ تک احتجاجی مارچ نکالا۔ اس مظاہرہ کی قیادت ایپوا ریاستی صدر کرشن ادھیکاری، ریاستی سکریٹری کسم ورما، آئیسا ریاستی صدر آیوش شریواستو، ریاستی سکریٹری شیوم چودھری، آر وائی اے ریاستی صدر راکیش سنگھ اور سکریٹری سنیل موریہ نے کی۔ اس مظاہرہ میں شریک سینکڑوں افراد کو پولیس نے حراست میں بھی لیا۔
مظاہرہ کی قیادت کر رہی ایپسوا کی ریاستی صدر کرشنا ادھیکاری نے کہا کہ خاتون پہلوانوں کے ساتھ 28 مئی کو جو کچھ ہوا، وہ پی ایم مودی کے ’امرت کال‘ میں 75 سال کے جمہوری ہندوستان کی تاریخ کا سب سے ظالمانہ اور غیر انسانی عمل ہے۔ جس طرح خاتون پہلوانوں کو گھسیٹا گیا، پیٹا گیا، بے عزت کیا گیا، اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے کیمپ کو ہٹا دیا گیا اور انھیں الگ الگ تھانوں میں بند کر ذہنی طور پر استحصال کیا گیا ہے۔ یہ سینگولی جمہوریت کی پہلی علامت ہے۔ ہمیں سینگول نہیں، آئین چاہیے۔
انقلابی نوجوان سبھا (آر وائی اے) کے ریاستی صدر راکیش سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ ایک طرف ملک کے وزیر اعظم نئی پارلیمنٹ کا افتتاح کر رہے ہیں اور اس میں عصمت دری کے ملزم برج بھوشن شرن سنگھ کو بٹھایا گیا ہے، دوسری طرف خاتون پہلوان جو ایک ماہ سے زیادہ سے اپنے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں ان کو دہلی پولیس سڑکوں پر گھسیٹ رہی ہے۔ اس سے شرمناک ملک کے لیے اور کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ ملک کا وقار بلند کرنے والے، ملک کے لیے گولڈ میڈل لانے والے کھلاڑیوں کو سڑک پر گھسیٹا جا رہا ہے اور ملک کے وزیر اعظم اتنے سنگین جرائم پیشہ کے ساتھ پارلیمنٹ کا افتتاح کر رہے ہیں۔
آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن (آئسا) کے ریاستی صدر آیوش شریواستو نے اس موقع پر کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اولمپک کھیلوں میں ہندوستان کے لیے میڈل جیت کر لانے والی خاتون پہلوان برسراقتدار پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور ڈبلیو ایف آئی چیف برج بھوشن سنگھ کے خلاف جنسی استحصال کی شکایت لے کر جنتر منتر پر اپنی عزت کو بچانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ہم یہ مانتے ہیں کہ جنسی استحصال بہت سنگین جرم ہے، ایسے سنگین الزامات کے باوجود گرفتاری نہیں ہونا شرمناک ہے۔ ایک طرف برج بھوشن سنگھ کو بچایا جا رہا ہے، جبکہ انصاف مانگنے والی بیٹیوں پر لگاتار ظلم کیا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ پاکسو ایکٹ کے تحت برج بھوشن پر فوراً کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کیا جائے، خاتون پہلوانوں پر بربریت والا رویہ اختیار کرنے والے پولیس افسران کو سزا دی جائے، ایف آئی آر کرنے والی نابالغ پہلوان کی شناخت ظاہر کرنے والے شخص کے خلاف کارروائی کی جائے، اور خاتون پہلوان سمیت سبھی مظاہرین پر درج مقدمات ختم کیے جائیں۔